The Constitution of India provides a single citizenship for whole country.
Citizenship Amendment Act.
1955
کے قانون میں بدلاؤ لاتے ہوے 2014 میں یہ قانون سب سے پہلے
لوک سبھا میں پیش کیا گیا۔ یہ بل جنوری -2019 کو منظور ہو چکا تھا لکین لوک سبھا 16کے خاتمے کے ساتھ یہ بھی رد ھوگیا۔9 دسمبر2019 کو دوبارہ سے امیت شاہ نے لوک سبھا میں اس کا مطالبہ کیا اور لوک سبھا 17سے10دسمبر 2019کو اسے اجازت مل گئی۔
آئیے تھوڑا تفصیل سے اس کا مطالعہ کریں۔یہ قانون خاص ان لوگوں کے لیے بنایا گیا تھا جو غیر ملکی ہیں اور بھارت میں 2014دسمبر31 سے پہلے آئے تھے ۔یہ بل خاص چھ سماج کے لوگوں کے لیے بنایا گیا ہےجن میں ہندو،بدھ،کرشن،پارسی،سکھ اور جین جو پاکستان، بنگلہ دیش،اور افغانستان سے ہو انکا شمار ہوتا ہے۔ 1987میں کسی بھی شخص کا بھارت میں پیدا ہونا اس کی شہریت کے لیے کافی تھا۔ پھر بنگلہ دیش سے بڑے پیمانے پر لوگوں کی ہجرت کے بعد ,شہریت کے لیے کسی ایک سرپرست کا بھارتی ہونا لازمی قرار دیا گیا ۔ بل کے آ نے سے پہلےہر شخص جو7 سال سے بھارت میں قیام پذیر ہو اسے بھارت کی شہریت حاصل ہو جایا کرتی تھی۔اور غیر ملکی اسے قرار دیا جاتا تھا جو کسی دستاویزات کے بنا آیا ہو یا مقررہ وقت سے زیادہ رہ چکا ہو ایسے شخص کو جیل ہوتی تھی یا ملک سے باہر بھیج دیا جاتا تھا۔ اس بل کے تحت جو غیر مسلم غیر ملکی ہیں انہیں قانونی قرار دیا جائے گا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا مقصد صرف اورصرف تینوں ممالک کے غیر مسلمانوں کو بھارت کی شہریت دینا ہے۔
کیا یہ مسلمانوں کے خلاف ہے؟ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ اس قانون کے تحت پاکستان کے شیاء ، بلوچ وغیرہ کو بھارت کی شہریت حاصل نہیں ہوگی۔یقینا یہ مسلمانوں کے خلاف ہے لیکن اس کا نقصان پورے ملک کی بنیاد ہلا کر رکھ دے گا ، بےشک ہر قوم ہر سماج اور ہر طبقے کے لوگوں کو اس کا نقصان اٹھانا ھوگا جس سے ملک کی سماجیات پر تو اثر ہوگا ہی لیکن ملک کی معاشیات پر بھی گہرا اثر پڑے گا۔
یہ قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے جس کے تحت ہر شہری کو برابری کا حق حاصل ہے۔
یہ مدہ بھی بحث کے قابل ہے کے جب لاکھوں کی تعداد میں لوگ بنگلہ دیش سے آ ئیں گے اور انہیں شہریت مل جاتی ہے تو بہت بڑے پیمانے پر بنیادی وسائل،آبادی ، روزگار ، زمین ، اور سماج اثر انداز ہونگے۔یہ بھی ممکن ہے کہ بھارت کی حکومت مستقبل میں میں غیر ملکی لوگوں کے ہاتھ میں ہو۔
اس کے ساتھ اور بھی کئی موضوع ہے جن پر سوال۔اٹھاےجا رہے ہیں جیسے پاکستان، افغانستان، اور بنگلہ دیش ھی کیوں ، میانمار، بھوٹان ، اور نیپال کیوں نہیں جبکہ یہ ممالک بھارت کی سرحد سے ملتے ہیں۔ پھر اگر مذہب کی بنیاد پر بدلاؤ کیا جارہا ہے تو بھوٹان کو کیوں چھوڑا گیا جبکہ بھوٹان میں صرف بودھ مذہب رائج ہے۔ کیوں روہنگیا کے لوگوں کو اس قانون کے تحت اجازت نہ ملی۔
بہرحال ایسے کئی موضوع سامنے آرہے ہیں ۔
وقت حال کی ضرورت یہ ہے کہ سارے مسلمان اور سارے ہندوستان کے لوگ یکجا ہوجاے تاکہ ظلم کا سامنا کیا جائے اوردشمنوں کو اس بات کا اندازہ دلایا جائے کہ جتنا کمزور وہ اس قوم کو سمجھتے ہیں اس سے دگنا طاقتور اور مضبوط ہیں ہم ۔ وہ بھول بیٹھے ہیں اس حقیقت کو کہ حد درجہ شجاع، دلیر ، حوصلہ مند انبیاء اور صحابیات کی قوم ہےہم ۔ آئیں ہم سب مل کر ایک ہو جائیں۔
وقت ہے سامنے آنے کا
وقت ہے آواز اٹھانے کا
وقت ہے لڑنے کا
وقت ہے آواز اٹھانے کا
وقت ہے لڑنے کا
ہر سمت مچلتی کرنوں نے افسانہ-شب-غم توڑ دیا
اب جاگ اٹھے ہیں دیوانے دنیا کو جگا کر دم لیں گے
یہ بات عیاں ہے دنیا میں ہم پھول بھی ہے تلوار بھی ہیں
ہاں بزم جہاں مہکایٔں گے یا خوں میں نہا کر دم لیں گے
سوچا ہے قاتل اب کوئی بھی ہوہر حال میں اپنا حق لیں گے
عزت سے جیے تو جی لیں گے یا جام شہادت پی لیں گے
https://byjus.com/free-ias-prep/citizenship-
amendment-bill-2019/
https://byjus.com/free-ias-prep/national-register-citizens/
https://byjus.com/free-ias-prep/citizenship-
amendment-bill-2019/
https://byjus.com/free-ias-prep/national-register-citizens/

Share this article to those people of our society who need to know something more about the current topic on fire and hence I made this in Urdu . To know more in English , links are given and ample of matter is available on internet
ReplyDelete